Mooli Ke Fawaid – Good in Taste Best for Health !

The health benefits of radishes have been known for millennia. Since before the Roman Empire Radishes have also been used not only as a food product but also used as a medicine. Radish is a vegetable with thin white skin and white flesh, this vegetable can be eaten raw (appetizer and salads) or cooked (ingredient to soup dishes). To retain the freshness and crunchiness of this vegetable it is advised to soak it in cold water. Here we are with the detail benefits of Mooli in Urdu that will be helpful.

radish-nutrition

مولی سرد مزاج سبزی ہے، جسے دنیا بھر میں اگایا اور کھایا جاتا ہے،خوبصورتی اور طبعی دونوں لحاظ سے مولی کے بے شمار فوائد ہیں، مولی کو پہلی مرتبہ چائنا میں کاشت کیا گیا۔اسکا تعق (یا گوبھی) فیملی سے ہے۔جو اپنے رنگ اور سائز کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔مولی میں وٹامن اے،بی 1،بی2، نیا سین، فولک ایسڈ ، ایسنشیل آئل، کلو رائن،فام فائبرز، کیلشیم فاسفورس، فولاد،اوکسیلک ایسڈ سے بھر پوری ہوتی ہے،اسکے پتوں میں ایسنشیل آئل، وٹامن اے اور سی جب کہ بیجوں میں 30سے40فیصد خفیہ چکنائی شامل ہوتی ہے۔

 مولی جسم سے فاسد مادوںکو باہر نکال دیتی ہے۔
مولی ، پیشاب آور ہے۔
بواسیر کے مریضوں کے لئے مولی اور اسکا رس بے حد مفید ہوتا ہے ، جو خارش اور جلن کو ختم کردیتی ہے۔
مولی بلغم خار ج کرنے میں مدد دیتی ہے۔
مولی کا استعمال قبض کشا دوا کا کام کرتا ہے۔
مولی کے باقاعدہ استعمال سے جسم کا خون صاف ہوجاتا ہے۔جسکی وجہ سے جلدی بیماری سے تحفظ ملتا ہے۔
مولی کے پتے بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
مولی دست، پیچش،ڈِکار آنا، کھانسی ،ہائی بلڈ پریشر،دل کے امراض اور دمے کے لئے انتہائی مفید سبزی ہے۔
گُردے اور مثانہ میں پتھری کے لئے مولی اکسیر ہے۔
جگر اور تلی کے امراض میں بھی مولی کااستعمال پُر اثر ثابت ہوتا ہے۔
مولی کینسر جیسے مرض کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

مولی میں کیلوری بھی بہت کم مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ ایک کپ مولی کے سلائس صرف 19کیلوریز رکھتے ہیں۔

radish-ghp

سفید مولی کے فوائد
٭کان کے امراض کے لئے

کانوں کے امراض میں مولی کے رس کا استعمال ایک بہترین قدرتی تدراک ہے۔مولی کے رس کو تل کے تیل میں ڈال کر پکائیں۔جب صرف تیل رہ جائے تو اسے بوتل میں ڈال کر محفوظ کریں۔

٭دست یا پیچش کے لئے

100گرام مولی کے خشک پتوں کو پانی میں ابالیں۔جب پانی گاڑھا ہوجائے تو اسے چائے کی طرح پیئیںاور اس عمل کو 2-3دنوں تک جاری رکھیں۔

٭زہریلے کیڑے مکوڑوں کا ڈنگ مارنا

اگر بچھو ڈنک مارے تو متاثرہ جگہ پر مولی کا رس لگائیں،اس سے زہر کا اثر زائل ہواتا ہے۔

mooli radishجلد سے متعلق مسائل کے لئے بھی مولی کا جوس بھی بے حد مقبول ہے۔مولی میں شامل وٹامن سی ،بی کمپلیکس، زنک اور فاسفورس جلد کے لئے بے انہتا مفید اور پر اثر ثابت ہوتے ہیں۔مولی میںموجود پانی جلد کو موئسچرائز اور ترو تازہ رکھنے میں مدد دیتا ہے۔مولی کا جوس باقاعدگی سے پینے سے نہ صرف جسم کے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں۔بلکہ یہ جلد کی خشکی، داغ دھبوں اور ایکنی کو ختم کردیتا ہے۔اینٹی اوکسی وینٹ رکھنے کی وجہ سے مولی جلد کو کارسینوجن اور الٹرا وائلٹ شعاعوں سے بچاتی ہے۔اسکے علاوہ مولی اپنی اینٹی سپٹک اور اینٹی فنگل خصوصیات کی وجہ سے ایتھلیٹ فٹ اور ران کی بیماری (جوک آئیٹل)کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

٭بلیک ہیڈ

جلد پر موجودبلیک ہیڈز، سیاہ ددھبوں یا چہرے پر کسی بھی قسم کا انفیکشن ہوتو اس پر مولی کا رس لگائیں اور 20منٹ کے بعد سادہ پانی سے دھو لیں،اس نسخے کے باقاعدہ استعمال سے چہرہ صاف ستھرا اور بے داگ ہوجائے گا۔

٭رنگھت نکالنے کے لئے

مولی کو چھیل کر اسکا پیسٹ بنا لیں، اب اس پیسٹ کو اپنے چہرے اور گردن پر لگائیں اور آدھے گھنٹے کے بعد دھو لیں بہترین اور حیرت انگیز نتائج کے لئے اس نسخے کو باقاعدگی سے استعمال کریں۔آپ کی جلد نرم اور ملائم اور بے داغ ہوجائے گی۔

٭کلینزر

چہرے پر قدرتی چمک اور شادابی لانے کے لئے مولی کو کچل کرچہرے پر لگائیںاور 20منٹ تک لگا رہنے کے بعدٹھنڈے پانی سے دھو لیں،مولی کا پیسٹ آپ کی جلد کو گہرائی تک صفائی کردے گا اور چہرے پر چمک بھی پیدا ہوجائے گی۔
٭پھٹی اور خشک جلد کے لئے

مولی کا استعمال خشک اور پھٹی ہوئی جلد کو نرم کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔مولی کے جوس میں روغن زیتون ملا کراس مسکچر کواپنے چہرے پر کلاک وائس رگڑیں۔اسکے باقاعدہ استعمال سے جلد صاف ستھری، نرم و ملائم اور بے داغ ہوجائے گی۔

٭مولی کا ماسک

اگر مولی کے بیجوں کو پیس کر دہی میں ملا کرچہرے پر لگایا جائے تو اس سے چہرے کا تمام گردو غبار صاف ہوجاتا اور رنگت بھی نکھر جاتی ہے۔

٭منہ کی بدبو اور ڈکاروں سے نجات

مولی کچی کھائی جائے یا پکا کردونوں طرح یہ ایک مفید سبزی ہے۔لیکن مولی کو کھانے کے بعد منہ سے بو اور ناگوار ڈکاروں کے لئے اکثر شرمندگی کا باعث بنتا ہے۔مولی کھانے کے بعد اگر تھوڑا سا گُڑ کھالیا جائے یا تھوڑے سے کچے مٹر چبا لئے جائیں تو اس سے مولی بھی ہضم ہوجائے گی اور منہ سے ڈکاریں اور بو آنا بھی بند ہوجائیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

Current day month [email protected] *